سیرتِ انبیاء ﷺ اور شخصیت سازی کے اصول




خطاب نمبر: Ah-11
تقریب: اعتکاف 2025
مقام: شہرِ اعتکاف لاہور,
مورخہ: 23 مارچ 2025
تفصیل:

اس خطاب میں، ڈاکٹر حسن محی الدین قادری بیان کرتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ انبیاء کرام کے قصوں کے ذریعے انسانوں کی رہنمائی اور ان کے قلوب و نفوس کی تطہیر فرماتا ہے۔ انبیاء کی زندگیوں کا ذکر کرنا نہ صرف نبی اکرم ﷺ کی سنت ہے بلکہ یہ سنتِ الٰہیہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو امتِ مسلمہ کے لیے کامل نمونہ بنا کر بھیجا، اور سابقہ انبیاء کے قصوں کے ذریعے اللہ چاہتا ہے کہ لوگ زہد، تقویٰ، صبر، قناعت اور توحید کے اوصاف سیکھیں۔ انبیاء کی راہ پر چل کر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

 

ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اس امر پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے پچھلے انبیاء کے آزمائشوں کو نبی اکرم ﷺ کے لیے تسلی کا ذریعہ بنایا جب انہیں کفار کی جانب سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ حضرت یونس (علیہ السلام)، حضرت ایوب (علیہ السلام)، حضرت یوسف (علیہ السلام)، حضرت ابراہیم (علیہ السلام)، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آزمائشوں کا ذکر کرتے ہیں اور اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ یہ واقعات اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدم رہنے والوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

 

اس خطاب میں اس امر پر زور دیا گیا کہ انبیاء اپنی امتوں کے رہنما ہوتے ہیں، اور حقیقی رہنما وہی ہوتا ہے جو صبر و استقامت کا اعلیٰ نمونہ پیش کرے۔ ایک رہنما مشکلات کو برداشت کرتا ہے تاکہ معاشرے میں امن و سکون قائم ہو۔ انبیاء کرام نے کبھی بھی مشکلات میں اپنی امتوں کے خلاف بد دعا نہیں کی، بلکہ ہمیشہ ان کی ہدایت اور بھلائی کے لیے دعا فرمائی۔

 

انبیاء کی تعلیمات کردار سازی اور شخصیت کی نشوونما میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری گفتگو میں نرمی، اخلاص اور حسنِ اخلاق کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، جیسا کہ انبیاء کی سیرت میں ملتا ہے۔ قرآن میں بار بار ایک ہی پیغام دہرایا گیا ہے تاکہ لوگ اسے بہتر طور پر سمجھ سکیں، اور یہی طرزِ بیان موثر انداز میں تعلیم دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔

 

یہ خطاب تمام سننے والوں، خاص طور پر علماء، خطباء، اساتذہ اور رہنماؤں کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ اصلاح اور رہنمائی کے عمل میں مثبت طرزِ گفتگو، اخلاص، اور مستقل مزاجی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔